روزہ دار کے لیے دو بڑی خوشیاں: افطار کی لذت اور رب کا دیدار (صحیح بخاری: 1904)


روزہ محض پیاس اور بھوک برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنے کی ایک عظیم عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کے لیے روزے کے بدلے ایسی خوشیاں رکھی ہیں جن کا تصور ہی ایمان کو تازگی بخشتا ہے۔

حدیثِ مبارکہ (عربی متن)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ"


اردو ترجمہ

​رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے اسے فرحت و راحت حاصل ہوتی ہے:"

  1. "جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔"
  2. "اور جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کے باعث خوش ہوگا۔"

4.  حوالہ (Reference)

  • کتاب: صحیح بخاری (Sahih Bukhari)
  • حدیث نمبر: 1904

5. حدیث کی جامع وضاحت

​اس حدیث میں دو طرح کی خوشیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک مومن کے لیے باعثِ سکون ہیں:

  • دنیاوی خوشی (افطار): سارا دن اللہ کے حکم پر بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد جب شام کو رزقِ حلال سامنے ہوتا ہے، تو وہ لمحہ ایک عجیب روحانی اور جسمانی خوشی کا ہوتا ہے۔ یہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ اللہ نے اسے عبادت مکمل کرنے کی توفیق دی۔
  • اخروی خوشی (دیدارِ الٰہی): سب سے بڑی خوشی قیامت کے دن ہوگی جب روزہ دار اپنے خالق و مالک کے سامنے حاضر ہوگا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اسے روزے کا وہ اجرِ عظیم عطا فرمائے گا جو کسی کے گمان میں بھی نہیں۔
...
...