سحری ضرور کریں: سنتِ نبوی ﷺ اور سحری کی برکات (صحیح ابن حبان: 3476)

رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے لیے سحری کھانا ایک اہم سنت ہے۔ بہت سے لوگ سستی یا نیند کی وجہ سے سحری چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ نبی کریم ﷺ نے اس کی خاص تاکید فرمائی ہے تاکہ روزے دار کو قوت حاصل ہو اور وہ سنت کے اجر کا مستحق ٹھہرے۔
حدیثِ مبارکہ (عربی متن)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "تَسَحَّرُوا وَلَوْ بِجُرْعَةٍ مِنْ مَاءٍ"
اردو ترجمہ
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"سحری ضرور کرو! اگرچہ ایک گھونٹ پانی ہی سے کیوں نہ ہو۔"
4. حوالہ (Reference)
کتاب: صحیح ابن حبان (Sahih Ibn Hibban)
حدیث نمبر: 3476
5. سحری کی اہمیت اور فوائد (وضاحت)
اس حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ سحری کرنا برکت کا باعث ہے، چاہے انسان زیادہ نہ کھا سکے، اسے سنت کی نیت سے تھوڑا بہت ضرور لینا چاہیے۔
سنت کی پیروی: سحری کرنا اللہ کے رسول ﷺ کی سنت ہے، جس پر عمل کرنا باعثِ ثواب ہے۔
جسمانی قوت: سحری سے انسان کو دن بھر روزہ رکھنے کے لیے توانائی ملتی ہے۔
برکت کا حصول: احادیث میں سحری کو "برکت والا کھانا" قرار دیا گیا ہے۔
آسانی: دینِ اسلام میں آسانی ہے، اسی لیے تاکید کی گئی کہ اگر بھوک نہ بھی ہو تو صرف پانی کے ایک گھونٹ سے بھی اس سنت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
...
...