حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا۔
(صحیح مسلم)
اردو ترجمہ:
سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا۔
یہ مختصر مگر نہایت جامع حدیث جمعہ کے دن کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے سات دنوں میں سے جمعہ کو خاص شان عطا فرمائی۔ یہ دن صرف عبادت کا ایک موقع نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے بڑے واقعات کا حامل دن ہے۔
سب سے پہلے اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسانی زندگی کا آغاز ہوا۔ پھر اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں داخل کیا گیا۔ جنت انسان کا اصل وطن ہے، اور اسی کی طرف لوٹنا ہر مومن کی تمنا ہے۔ بعد ازاں اسی دن انہیں زمین پر اتارا گیا تاکہ دنیا میں آزمائش کا سلسلہ شروع ہو۔ یوں جمعہ کا دن انسان کی ابتدا، اس کے شرف اور اس کی آزمائش—تینوں حقیقتوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔
جمعہ مسلمانوں کے لیے خصوصی عبادت کا دن ہے۔ اس دن نمازِ جمعہ فرض کی گئی جو اسلام کے اجتماعی نظام کی علامت ہے۔ مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر خطبہ سنتے ہیں، نصیحت حاصل کرتے ہیں اور باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ اس دن درود شریف کی کثرت کی تاکید آئی ہے اور دعا کے قبول ہونے کی ایک خاص گھڑی بھی اسی دن میں رکھی گئی ہے۔
جمعہ کا دن مومن کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ایک مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی اصل منزل جنت ہے اور دنیا محض عارضی قیام گاہ ہے۔ جب ہر ہفتے جمعہ آتا ہے تو گویا انسان کو اپنی حقیقت، اپنی ذمہ داری اور اپنے انجام کی یاد دہانی ہوتی ہے۔
اس لیے جمعہ کو عام دنوں کی طرح نہ گزارنا چاہیے۔ اس دن پاکیزگی، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن، درود شریف اور دعا کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ دن اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا دن ہے، اور جو شخص اس کی قدر کرتا ہے وہ روحانی سکون اور قربِ الٰہی سے فیض یاب ہوتا ہے۔