اسلامی معاشرت میں خوش اخلاقی کی اہمیت
دینِ اسلام ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ محبت، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آنے کا درس دیتا ہے۔ کسی مسلمان بھائی کا گرمجوشی سے استقبال کرنا اور اسے خوش آمدید کہنا نہ صرف ایک بہترین سماجی عمل ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑے اجر کا باعث بھی ہے۔
حدیث مبارکہ (عربی متن)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا، فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: قَحْطًا، فَقَحْطًا لَهُ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ"
اردو ترجمہ
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جب کوئی شخص لوگوں کے پاس جائے اور وہ اسے مرحبا (خوش آمدید) کہیں تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ملاقات کے وقت (قیامت کے دن) بھی اسے مرحبا کہا جائے گا۔ اور جب کوئی شخص لوگوں کے پاس جائے اور وہ اسے قحطاً قحطاً (تم ہر طرح کی خیر و بھلائی سے محروم ہو) کہیں تو قیامت کے دن بھی اسے اسی طرح سے کہا جائے گا۔"
حوالہ
- کتاب: المستدرک للحاکم (Al-Mustadrak al-Hakim)
- حدیث نمبر: 6235
- راوی: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
حدیث کی مختصر تشریح اور سبق
اس حدیث مبارکہ سے ہمیں چند اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں:
- استقبال کی فضیلت: کسی آنے والے مسافر یا مہمان کو "مرحبا" کہنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ یہ لفظ محبت اور اپنائیت کی علامت ہے۔
- جیسا کرو گے ویسا بھرو گے: جو شخص دنیا میں لوگوں کے لیے خوشی اور خیر کا باعث بنتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنی رحمتوں سے نوازے گا۔
- بد اخلاقی کی مذمت: کسی کو دیکھ کر منہ بنانا یا اسے بددعائیہ الفاظ کہنا (جیسے قحطاً کہنا) انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، جس کا بدلہ قیامت کے دن اسی طرح ملے گا۔
- معاشرتی ہم آہنگی: اگر ہم ایک دوسرے کو خوش آمدید کہنے کی عادت ڈالیں تو معاشرے سے نفرتیں ختم ہو جائیں گی اور محبت کو فروغ ملے گا۔
نتیجہ: ہمیں چاہیے کہ جب بھی کوئی ہم سے ملنے آئے، ہم مسکراتے ہوئے اور اچھے الفاظ کے ساتھ اس کا استقبال کریں تاکہ ہم بھی اللہ کی جانب سے "مرحبا" کے حقدار بن سکیں۔