اسلام میں شہادت کا رتبہ بہت بلند ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں اور نمازوں میں اتنی برکت رکھی ہے کہ ایک عام مسلمان محض اپنی عبادات کی بدولت شہید سے بھی آگے نکل سکتا ہے؟
حدیثِ مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ حَيٍّ مِنْ قُضَاعَةَ أَسْلَمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَاسْتُشْهِدَ أَحَدُهُمَا، وَأُخِّرَ الْآخَرُ سَنَةً، قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: فَأُرِيْتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ الْمُؤَخَّرَ مِنْهُمَا أُدْخِلَ قَبْلَ الشَّهِيدِ، فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَأَصْبَحْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَلَيْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَهُ رَمَضَانَ، وَصَلَّى سِتَّةَ آلَافِ رَكْعَةٍ، أَوْ كَذَا وَكَذَا رَكْعَةً صَلَاةَ السَّنَةِ؟"
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک قبیلے کے دو صحابی ایک ساتھ مسلمان ہوئے۔ ان میں سے ایک صاحب جہاد میں شہید ہو گئے اور دوسرے صاحب کا ایک سال بعد انتقال ہوا۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ صاحب جن کا ایک سال بعد انتقال ہوا تھا، ان شہید صاحب سے بھی پہلے جنت میں داخل ہو گئے۔ یہ دیکھ کر مجھے تعجب ہوا۔ صبح ہوتے ہی جب رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جن صاحب کا بعد میں انتقال ہوا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ ان کی نیکیاں کتنی زیادہ ہو گئیں؟ انہوں نے ایک رمضان المبارک کے پورے روزے بھی پائے اور ایک سال میں چھ ہزار (6000) سے زائد رکعتیں نماز بھی زیادہ ادا کیں۔"
حوالہ (Reference)
- کتاب: مسند احمد بن حنبل (Musnad Ahmad)
- حدیث نمبر: 8049
حدیث کی جامع وضاحت
اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں چند نہایت اہم اسباق ملتے ہیں:
- رمضان کی قدر: رمضان کا ایک ایک روزہ اور ایک ایک لمحہ اتنا قیمتی ہے کہ یہ انسان کے درجات کو آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔
- نماز کی اہمیت: ایک سال کی زائد نمازیں (تقریباً 6000 رکعتیں بشمول فرائض و سنن) انسان کے میزانِ عمل میں بہت بڑا وزن رکھتی ہیں۔
- طویل عمر کی برکت: اگر زندگی اللہ کی اطاعت میں گزرے تو طویل عمر اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے، کیونکہ اس سے نیکیاں کرنے کا موقع زیادہ ملتا ہے۔
- اعمال کا مقابلہ: شہادت بلا شبہ عظیم ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلسل بندگی اور عبادات (روزہ و نماز) کا مقام بھی نہایت بلند ہے۔