اسلام میں عبادات کے طریقے سابقہ امتوں سے ملتے جلتے ضرور ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ ﷺ کو بعض ایسی خصوصیات عطا فرمائی ہیں جو ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم خصوصیت "سحری کھانا" ہے۔
حدیثِ مبارکہ (عربی متن)
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ"
اردو ترجمہ
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
"ہمارے اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے روزوں کے درمیان بنیادی فرق سحری کھانا ہے۔"
4. حوالہ (Reference)
کتاب: سنن الدارمی (Sunan al-Darimi)
حدیث نمبر: 1697
5. تفصیلی وضاحت اور سبق
اس حدیث مبارکہ سے ہمیں چند اہم دینی فوائد حاصل ہوتے ہیں:
امتِ محمدیہ ﷺ کی پہچان: سحری کھانا محض ایک جسمانی ضرورت نہیں بلکہ یہ ایک شعار ہے جو ہمیں سابقہ امتوں کے روزے رکھنے کے طریقے سے الگ کرتا ہے۔
سنت کی پیروی: سحری کا اہتمام کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے اور اس میں برکت رکھی گئی ہے۔
اہلِ کتاب کی مخالفت: اسلام ہمیں اپنی عبادات میں ایک خاص وقار اور پہچان عطا کرتا ہے، اسی لیے اہل کتاب کی مشابہت سے بچنے کے لیے سحری کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
روزے میں آسانی: اللہ تعالیٰ نے سحری کی صورت میں مسلمانوں کو یہ رعایت دی ہے تاکہ وہ دن بھر تروتازہ رہ کر اپنی دیگر عبادات اور فرائض بخوبی سر انجام دے سکیں۔