افطار کا وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لیے ایک انعام کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کرنا نہ صرف ثواب میں اضافے کا باعث ہے بلکہ یہ صحت کے لیے بھی بہترین ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں افطار کے لیے بہترین اشیاء کی رہنمائی فرمائی ہے۔
حدیثِ مبارکہ
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ"
اردو ترجمہ
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ کھجور باعثِ برکت ہے، اور اگر کوئی شخص کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے"۔
حوالہ (Reference)
- کتاب: سنن ترمذی (Sunan al-Tirmidhi)
- حدیث نمبر: 695
سنتِ افطار کی حکمت (وضاحت)
اس حدیثِ مبارکہ میں دو اہم چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی طبی اور روحانی اہمیت درج ذیل ہے:
- کھجور کی برکت: کھجور ایک مکمل غذا ہے جو دن بھر کی کمزوری کو فوری طور پر دور کر کے جسم کو توانائی (Energy) فراہم کرتی ہے۔ سنت کی نیت سے کھجور کھانا برکت کا باعث ہے۔
- پانی کی پاکیزگی: پانی انسانی جسم کے اندرونی نظام کو صاف کرتا ہے۔ اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے روزہ کھولنا بہترین ہے کیونکہ یہ پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ بدن کو تروتازہ کرتا ہے۔
- سادگی اور اتباع: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ افطار میں بہت زیادہ تکلفات کے بجائے سادگی اور سنت کی پیروی کو ترجیح دینی چاہیے۔