روزے کی حفاظت کا نبوی ﷺ نسخہ: گالی گلوچ اور جھگڑے سے بچنے کی اہمیت

اسلام میں روزے کا مقصد محض کھانے پینے سے رک جانا نہیں، بلکہ اپنے نفس پر قابو پانا اور اخلاق کو بلند کرنا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بھوک اور پیاس کی شدت میں انسان جلد غصے میں آ جاتا ہے، لیکن نبی کریم ﷺ نے ہمیں اس نازک صورتحال میں صبر اور خاموشی کا بہترین نسخہ عطا فرمایا ہے۔

حدیثِ مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفَثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ"

اردو ترجمہ

​نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ فحش گوئی کرے اور نہ بیہودہ باتیں کرے اور نہ چیخ و پکار اور جھگڑا کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑے پر اتر آئے تو (وہ لڑنے کے بجائے) یہ کہے: میں تو روزہ دار ہوں (اور لڑائی جھگڑے سے اپنے روزے کو خراب نہیں کرتا)"۔

حوالہ (Reference)

  • کتاب: صحیح بخاری (Sahih Bukhari)
  • حدیث نمبر: 1904

روزے کی حفاظت کیسے کریں؟ (وضاحت)

​اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں ایک روزہ دار کے لیے چند اہم اخلاقی ہدایات درج ذیل ہیں:

  1. زبان کی حفاظت: روزہ دار کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو گالی گلوچ، غیبت اور بیہودہ گفتگو سے پاک رکھے۔
  2. غصے پر قابو: بھوک کی وجہ سے پیدا ہونے والے چڑچڑے پن کو قابو میں رکھنا ہی اصل روزہ ہے۔
  3. صبر کا مظاہرہ: اگر کوئی دوسرا شخص آپ کو مشتعل کرنے کی کوشش کرے تو اسے جواب دینے کے بجائے اپنی حالت (روزہ) کی یاد دہانی کرانا سنت ہے۔
  4. حقیقی روزہ: وہ روزہ جو صرف پیٹ کا ہو لیکن اخلاق کا نہ ہو، اللہ کے ہاں مقبولیت کے درجے سے محروم رہ سکتا ہے۔
...
...