اسلام ایک پاکیزہ دین ہے جو صفائی، ستھرائی اور ظاہری حسن و نزاکت کو بہت پسند کرتا ہے۔ ہفتے کے تمام دنوں میں "جمعۃ المبارک" کو مسلمانوں کے لیے ایک ہفتہ وار عید کا درجہ حاصل ہے۔ اس دن کی عظمت اور احترام کا تقاضا ہے کہ غسل کرنے، خوشبو لگانے کے ساتھ ساتھ اچھے اور صاف ستھرے لباس کا اہتمام کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو ترغیب دی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت دی ہو، تو عام دنوں کے کاروباری یا محنت مزدوری کے کپڑوں کے علاوہ خاص طور پر جمعہ کی نماز کے لیے الگ سے اچھے لباس کا جوڑا رکھنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔
حدیثِ مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ، أَوْ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَسِعَ عَلَيْهِ، أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ، سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ
حدیث کا حوالہ:
- کتاب کا نام: سنن ابن ماجہ
- حدیث نمبر: 1095
- (نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 1078 میں بھی مروی ہے، اور یہ جمعہ کے دن کے آداب و سنن کو سمجھنے کے لیے ایک مستند اور کلیدی دلیل ہے)۔
اردو ترجمہ
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"تم میں سے کسی کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اگر اس کو وُسعت ہو تو وہ روزمرہ کے کام کاج کے وقت کے پہنے جانے والے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے دن کے لیے کپڑوں کا ایک خاص جوڑا بنا کر رکھ لے"۔
حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت
اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں دینِ اسلام کی خوبصورتی، جمعہ کے دن کی اہمیت اور لباس کے انتخاب کے حوالے سے درج ذیل اہم نکات معلوم ہوتے ہیں:
1. روزمرہ کے لباس اور جمعہ کے لباس میں فرق
عہدِ رسالت میں بہت سے صحابہ کرام رَضیَ اللہ عنہم محنت مزدوری، کاشتکاری یا باغات کی دیکھ بھال کا کام کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے روزمرہ کے کپڑوں پر گرد و غبار یا پسینے کے اثرات ہوتے تھے۔ آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ جب مسلمانوں کے اس بڑے ہفتہ وار اجتماع (نمازِ جمعہ) میں آئیں، تو کام کاج والے کپڑوں (ثوبَیْ مِھْنَتِہِ) کے بجائے ایک صاف ستھرا اور الگ جوڑا زیب تن کریں، تاکہ محفل کا وقار برقرار رہے اور کسی دوسرے مسلمان کو بو یا پسینے سے تکلیف نہ ہو۔
2. "اگر وُسعت ہو" کی شرط اور اعتدال
نبی کریم ﷺ نے اس عمل کو "وُسعت اور گنجائش" کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔ اس سے اسلام کا اعتدال پسند مزاج ظاہر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص غریب ہے اور اس کے پاس دوسرا جوڑا بدلنے کی طاقت نہیں، تو شریعت اس پر زبردستی بوجھ نہیں ڈالتی۔ لیکن جس شخص کو اللہ نے مال دیا ہو، اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا اظہار اپنے اچھے اور صاف ستھرے لباس سے کرے۔
3. جمعہ کے دن سفید لباس کی افضلیت
اگرچہ اس روایت میں کسی خاص رنگ کا ذکر نہیں ہے، لیکن دیگر کتبِ حدیث کی صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "تمہارے لباسوں میں سب سے بہترین لباس سفید ہے، لہذا سفید کپڑے پہنا کرو"۔ اس لیے ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن اگر نیا یا صاف ستھرا سفید لباس میسر ہو، تو وہ سب سے زیادہ افضل ہے۔