کن جانوروں کی قربانی جائز نہیں؟ | سنن ترمذی حدیث 1497


بارگاہِ الٰہی میں قربانی پیش کرتے وقت خلوصِ نیت کے ساتھ ساتھ جانور کا ظاہری عیوب سے پاک ہونا بھی لازمی ہے۔ چونکہ قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور ایک ہدیہ اور تحفہ ہے، اس لیے کسی بھی ایسے جانور کو ذبح کرنا جائز نہیں جو شدید بیمار، معذور یا حد سے زیادہ کمزور ہو۔ نبی کریم ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے ہوئے ان عیوب کو کھول کر بیان فرما دیا ہے جن کی موجودگی میں قربانی قبول نہیں ہوتی۔

​آئیے اس سلسلے میں مستند حدیثِ مبارکہ، اس کا اصل عربی متن، اردو ترجمہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔

​حدیثِ مبارکہ (اصل عربی متن)

​عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:

​أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي

​حدیث کا حوالہ:

  • ​کتاب کا نام: سنن ترمذی
  • ​حدیث نمبر: 1497
  • ​(نوٹ: یہ حدیث دیگر کتبِ حدیث جیسے سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2802 اور سنن نسائی میں بھی مروی ہے، اور ائمہ کرام کے نزدیک عیب دار جانوروں کی پہچان کے لیے یہ بنیادی ضابطہ ہے)۔

​اردو ترجمہ

​خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

​"ان جانوروں کی قربانی سے بچا جائے:

  1. ​ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن بالکل عیاں ہو۔
  2. ​ایسا کانا جانور جس کا کانا پن بالکل واضح ہو۔
  3. ​ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو۔
  4. ​ایسا لاغر و کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا بالکل نہ ہو"۔

​حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت

​اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے چار ایسے واضح عیوب کا ذکر فرمایا ہے جن کی وجہ سے جانور قربانی کے لائق نہیں رہتا۔ فقہاء نے ان چار اصولوں کی روشنی میں قربانی کے احکام مرتب کیے ہیں:

​1. واضح لنگڑا پن (العَرجَاء)

​ایسا جانور جو لنگڑا کر چلتا ہو، اور اس کا لنگڑا پن اتنا زیادہ ہو کہ وہ ذبح خانے یا اپنے ریوڑ کے ساتھ چلنے کے قابل نہ رہے اور پیچھے رہ جائے، تو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔ اگر معمولی لنگڑا پن ہو تو گنجائش ہے۔

​2. کانا پن یا اندھا پن (العَورَاء)

​اگر جانور کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہو اور وہ بالکل واضح نظر آتا ہو، یا جانور دونوں آنکھوں سے اندھا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

​3. ظاہر بیماری (المَرِيضَة)

​ایسا جانور جو اتنا بیمار ہو کہ اس کی بیماری اس کے چارے، صحت اور گوشت پر اثر انداز ہو رہی ہو (مثلاً شدید بخار، کھجلی، یا کوئی ایسی وبا) جس سے جانور نڈھال ہو، اس کی قربانی بھی منع ہے۔

​4. انتہائی کمزوری اور لاغری (الكَسِيرَة)

​حدیث میں لفظ "لا تُنقِی" استعمال ہوا ہے، یعنی وہ جانور جو سوکھ کر اتنا نحیف و نزار ہو چکا ہو کہ اس کی ہڈیوں کا گودا تک ختم ہو گیا ہو۔ ایسے ہڈیوں کے ڈھانچے کی قربانی اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنا آدابِ بندگی کے خلاف ہے۔

لفظ
اعراب