اللہ رب العزت نے سال کے مختلف دنوں اور مہینوں میں سے کچھ ایام کو خاص برکت اور فضیلت عطا فرمائی ہے۔ انھی میں سے ذی الحجہ کے دس دن ہیں جن میں کی جانے والی عبادتیں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ان دس دنوں میں بھی عید الاضحیٰ (۱۰ ذی الحجہ) کا دن اور اس سے اگلا دن (۱۱ ذی الحجہ) اللہ کی بارگاہ میں ایک منفرد اور عظیم مقام رکھتے ہیں، کیونکہ یہ دن شکر گزاری، نماز اور اللہ کی راہ میں خون بہانے (قربانی کرنے) کے دن ہیں۔
آئیے اس فضیلت اور اہمیت پر مستند حدیثِ مبارکہ، اس کا اصل عربی متن، اردو ترجمہ، تفصیلی وضاحت سے کا مطالعہ کرتے ہیں۔
حدیثِ مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ
حدیث کا حوالہ:
- کتاب کا نام: سنن ابی داؤد
- حدیث نمبر: 1765
- (نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ عید الاضحیٰ اور اس کے بعد کے دن کی عظمت کو واضح کرتی ہے، اور امام ابن خزیمہ اور دیگر محدثین نے اسے صحیح قرار دیا ہے)۔
اردو ترجمہ
خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہ رب العزت کے نزدیک دنوں میں سب سے اہم ترین دن قربانی کا (پہلا) دن اور اس کے بعد قربانی کا دوسرا دن ہے"۔
حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت
اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سال کے دو سب سے عظیم الشان دنوں کی پہچان کروائی ہے۔ ان دنوں کی اہمیت کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1. یومُ النَّحر (قربانی کا پہلا دن)
حدیث میں لفظ "یوم النحر" استعمال ہوا ہے، جس سے مراد ۱۰ ذی الحجہ یعنی عید الاضحیٰ کا دن ہے۔ اسے اللہ کے ہاں سب سے اعظم (بڑا) دن اس لیے قرار دیا گیا کیونکہ اس دن دنیا بھر کے مسلمان مل کر نمازِ عید ادا کرتے ہیں، حج کا سب سے بڑا رکن (قربانی اور طوافِ زیارت) ادا ہوتا ہے، اور روئے زمین پر لاکھوں جانور اللہ کے نام پر ذبح کر کے سنتِ ابراہیمی کو زندہ کیا جاتا ہے۔ اس دن اللہ کی راہ میں خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب نہیں ہوتا۔
2. یومُ القَرّ (قربانی کا دوسرا دن)
حدیث میں دوسرا نام "یوم القرّ" آیا ہے، جس سے مراد ۱۱ ذی الحجہ (عید کا دوسرا دن) ہے۔ "القرّ" عربی زبان میں "ٹہرنے یا سکون اختیار کرنے" کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس دن حاجی منا کے میدان میں اپنے خیموں میں قیام کرتے ہیں (ٹہرتے ہیں) اور قربانی و حج کے اہم ارکان سے فارغ ہو کر اطمینان پاتے ہیں، اس لیے اسے یوم القر کہا جاتا ہے۔ عام مسلمانوں کے لیے بھی یہ دن قربانی اور اللہ کے ذکر کا دن ہوتا ہے۔
3. عبادت اور شکر گزاری کا پیغام
ان دنوں کو سب سے اہم قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان ایام کو غفلت یا صرف سیر و تفریح میں نہ گزاریں، بلکہ اللہ کی تکبیرات (اللہ اکبر اللہ اکبر) بلند کریں، غریبوں میں گوشت تقسیم کریں اور کثرت سے اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں ایمان اور استطاعت جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔