اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کچھ ایام اور راتوں کو خاص فضیلت اور برکت سے نوازا ہے تاکہ ان میں عبادات کر کے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی حاصل کی جا سکے۔ سال کے تمام دنوں میں سے ذی الحجہ کے ابتدائی ایام کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ انھی بابرکت دنوں میں عید الاضحیٰ (یوم النحر) اور اس سے اگلا دن (یوم القر) آتے ہیں، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے اہم اور عظیم ترین دن قرار دیا ہے۔
حدیثِ مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ
حدیث کا حوالہ:
- کتاب کا نام: سنن ابی داؤد
- حدیث نمبر: 1765
- (نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ عید الاضحیٰ کے ایام کی منزلت اور ان دنوں میں کی جانے والی مالی و بدنی عبادات کی اہمیت کو واضح کرتی ہے)۔
اردو ترجمہ
خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہ رب العزت کے نزدیک دنوں میں سب سے اہم ترین دن قربانی کا (پہلا) دن اور اس کے بعد قربانی کا دوسرا دن ہے"۔
حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت
اس حدیثِ مبارکہ میں دو خاص دنوں کا ذکر کر کے ان کی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. یومُ النَّحر (قربانی کا پہلا دن)
۱۰ ذی الحجہ یعنی عید الاضحیٰ کے دن کو "یوم النحر" کہا جاتا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس لیے سب سے عظیم ہے کیونکہ اس دن دنیا بھر کے مسلمان نمازِ عید ادا کرتے ہیں، حج کا سب سے بڑا رکن (قربانی اور طوافِ زیارت) ادا ہوتا ہے، اور سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی رضا کے لیے جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ اس مبارک دن پر اللہ کی راہ میں خون بہانے سے زیادہ کوئی اور عمل بارگاہِ الٰہی میں محبوب نہیں ہوتا۔
2. یومُ القَرّ (قربانی کا دوسرا دن)
۱۱ ذی الحجہ یعنی عید کے دوسرے دن کو شریعت میں "یوم القرّ" کہا جاتا ہے۔ "القر" کا مطلب ہے "ٹھہرنا یا سکون اختیار کرنا"۔ اس دن کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ ۱۰ ذی الحجہ کے اہم ترین ارکان (رمی، قربانی، اور سر منڈوانا) مکمل کرنے کے بعد حاجی منا کے میدان میں اپنے خیموں میں قیام کرتے ہیں اور اطمینان پاتے ہیں۔ عام مسلمانوں کے لیے بھی یہ دن تکبیراتِ تشریق کہنے، قربانی جاری رکھنے اور اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کا دن ہے۔
3. ان ایام کا اصل پیغام
ان دونوں دنوں کو سب سے اہم ترین دن قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ مومن ان اوقات کو غفلت، گناہوں یا صرف دنیاوی تفریحات میں ضائع نہ کرے۔ یہ دن کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے، رشتہ داروں اور غریبوں میں قربانی کا گوشت تقسیم کر کے ہمدردی کا مظاہرہ کرنے اور دلوں میں تقویٰ بیدار کرنے کے لیے مخصوص ہیں۔