قربانی کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے تقویٰ اور خلوص کا نذرانہ پیش کرنا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب اللہ کی راہ میں کوئی چیز پیش کی جائے، تو وہ بہترین، خوبصورت اور عیب سے پاک ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کا اپنا عملِ مبارک بھی یہی تھا کہ آپ ﷺ ہمیشہ قربانی کے لیے فربہ، تندرست اور خوبصورت جانوروں کا انتخاب فرماتے تھے۔
آئیے اس سلسلے میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرویات مستند حدیثِ مبارکہ، اس کا اصل عربی متن، اردو ترجمہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
حدیثِ مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ، سَمِينَيْنِ، أَقْرَنَيْنِ، أَمْلَحَيْنِ، مَوْجُوءَيْنِ، فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ، لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ، وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ
حدیث کا حوالہ:
- کتاب کا نام: سنن ابن ماجہ
- حدیث نمبر: 3122
- (نوٹ: یہ حدیث قربانی کے باب میں ایک انتہائی اہم اور جامع اصل ہے جو جانور کی صفات اور نبی کریم ﷺ کی اپنی امت کے لیے ہمدردی کو ظاہر کرتی ہے)۔
اردو ترجمہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
"رسول اللہ ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو 2 بڑے، فربہ (موٹے تازے)، سینگوں والے، رنگت میں ایسے سفید جس میں سیاہی کی آمیزش ہو، اور خصی مینڈھے خریدتے۔ اور ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی جانب سے ذبح فرماتے جنہوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی ہو، اور دوسرا خود اپنی اور اہل و عیال کی جانب سے ذبح فرماتے تھے"۔
حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت
اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں قربانی کے جانور کی صفات اور حضورِ اکرم ﷺ کی سنتِ مبارکہ کے چند انتہائی اہم نکات معلوم ہوتے ہیں:
1. قربانی کے جانور کی بہترین صفات
حدیثِ مبارکہ میں بہترین جانور کی چار بڑی نشانیاں بیان کی گئی ہیں:
- فربہ اور موٹا تازہ (سمینین): جانور کمزور یا ہڈیوں کا ڈھانچہ نہ ہو، بلکہ صحت مند ہو۔
- سینگوں والا (اقرنین): دیکھنے میں خوبصورت اور مکمل ہو۔
- املحین (سفید و سیاہ رنگت): ایسا سفید جانور جس میں تھوڑی سیاہی کی آمیزش ہو (جیسے آنکھوں کے گرد یا کھروں کے پاس)، یہ رنگت آپ ﷺ کو پسند تھی۔
- خصی مینڈھا (موجوءین): خصی جانور کا گوشت زیادہ جاندار، نرم اور لذیذ ہوتا ہے، اس لیے اس کی قربانی کو افضل مانا گیا ہے۔
2. امت کے لیے رسول اللہ ﷺ کی بے پناہ محبت
اس حدیث کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دو جانور قربان کیے۔ ایک جانور خاص طور پر اپنی امت کے ان غریب اور نادار لوگوں کی طرف سے ذبح فرمایا جو خود قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے لیکن ایمان پر قائم تھے۔ یہ آپ ﷺ کی اپنی امت سے بے پناہ شفقّت کی دلیل ہے۔
3. اپنے اہل و عیال کو شامل کرنا
دوسرا جانور آپ ﷺ نے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے ذبح کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے سربراہ کی طرف سے کی جانے والی قربانی میں پورے گھر والے اجر و ثواب میں شامل ہو جاتے ہیں۔