اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کی فضیلت | سنن ابن ماجہ حدیث 3155


​شریعتِ اسلامیہ میں قربانی محض ایک مالی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک گہرا بدنی اور روحانی تجربہ ہے۔ قربانی کا جانور خریدنے سے لے کر اس کے ذبح ہونے تک ہر قدم پر نیت کا اخلاص اور سنت کی پیروی لازمی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی مستقل سنتِ مبارکہ یہ تھی کہ آپ ﷺ اپنے قربانی کے جانور کو کسی دوسرے کے سپرد کرنے کے بجائے اپنے مبارک ہاتھوں سے ذبح فرماتے تھے۔ یہ عمل بندے کے عجز، شکر گزاری اور اللہ کی بارگاہ میں براہِ راست نذرانہ پیش کرنے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

​حدیثِ مبارکہ

​عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:

​ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا

​حدیث کا حوالہ:

  • ​کتاب کا نام: سنن ابن ماجہ
  • ​حدیث نمبر: 3155
  • ​(نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ انتہائی مستند ہے اور بخاری و مسلم سمیت کتبِ ستہ کے دیگر مقامات پر بھی مروی ہے، جو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کی فضیلت اور طریقے پر سب سے بڑی دلیل ہے)۔

​اردو ترجمہ

​حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

​"میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا، آپ اپنا پاؤں (مبارک) اس کے پٹھے پر رکھے ہوئے تھے"۔

​حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت

​اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں قربانی کے عمل، جانور کو قابو کرنے کے طریقے اور سنتِ نبوی ﷺ کے چند انتہائی اہم اور عملی نکات معلوم ہوتے ہیں:

​1. اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کی افضلیت

​حدیثِ پاک سے یہ واضح ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص خود ذبح کرنا جانتا ہو، تو اس کے لیے سب سے افضل اور مستحب عمل یہ ہے کہ وہ اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھوں سے ذبح کرے۔ اس سے انسان کے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے اور وہ اس عبادت کی روح کو زیادہ بہتر طریقے سے محسوس کرتا ہے۔ البتہ اگر کوئی ذبح کرنا نہ جانتا ہو یا خوف محسوس کرے، تو وہ کسی دوسرے (مثلاً قصاب یا عالم) سے ذبح کروا سکتا ہے، لیکن ایسی صورت میں ذبح کے وقت وہاں خود موجود رہنا زیادہ بہتر ہے۔

​2. جانور کو قابو کرنے کا صحیح طریقہ

​حدیث میں ذکر ہے کہ "آپ اپنا پاؤں اس کے پٹھے پر رکھے ہوئے تھے"۔ پٹھے (صفاح) سے مراد جانور کی گردن کا وہ پہلو یا حصہ ہے جو زمین پر ہوتا ہے۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ جانور کو بائیں کروٹ پر لٹایا جائے تاکہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو، اور ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں جانور کے شانے یا گردن کے نچلے حصے پر ہلکا سا رکھے تاکہ جانور زیادہ تڑپ نہ سکے اور ذبح کا عمل آسانی و صفائی سے مکمل ہو جائے۔ یہ طریقہ جانور کے لیے بھی راحت کا باعث بنتا ہے۔

​3. ذبح کے وقت تسمیہ اور تکبیر

​اگرچہ اس مخصوص روایت میں الفاظ مختصر ہیں، لیکن اسی واقعے کی دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ذبح کرتے وقت "بسم اللہ واللہ اکبر" پڑھا۔ شریعت میں ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا واجب ہے، اور اس کے ساتھ تکبیر کہنا رسول اللہ ﷺ کی خوبصورت سنت ہے۔

لفظ
اعراب