فیصلہ کرنے والے تین قسم کے لوگ اور ان کا انجام | سنن ابی داؤد حدیث 3573


​معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ایک پرامن زندگی کی بنیاد ہے۔ کسی بھی معاملے یا تنازعے میں جج، پنچایت کے سربراہ، یا کسی بھی سطح پر فیصلہ کرنے والے فرد کی ذمہ داری انتہائی نازک اور اہم ہوتی ہے۔ اسلام نے جہاں منصفین اور ججوں کو حق کے ساتھ فیصلہ کرنے پر عظیم درجات کی نوید سنائی ہے، وہاں نادانی، جہالت یا جان بوجھ کر ظلم و ناانصافی پر مبنی فیصلے کرنے والوں کو سخت ترین عذاب سے ڈرایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کرنے والوں کی تین بنیادی اقسام بیان فرما کر حق کی پیروی کا واضح راستہ دکھایا ہے۔

​حدیثِ مبارکہ

​عَنْ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

​الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ، فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ

​حدیث کا حوالہ:

  • ​کتاب کا نام: سنن ابی داؤد
  • ​حدیث نمبر: 3573
  • ​(نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ عدلیہ، قضا، اور باہمی فیصلوں کے ابواب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور منصف کی بھاری ذمہ داری کو عیاں کرتی ہے)۔

​اردو ترجمہ

​خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

​"فیصلہ کرنے والے 3 قسم کے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک قسم کے لوگ جنت میں اور بقیہ دو جہنم میں جائیں گے۔

  1. ​جنت جانے والا وہ شخص ہے جس نے حق پہچانا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔
  2. ​اور دوسرا شخص وہ ہے جس نے حق کو پہچانا پھر اس کے خلاف فیصلہ دیا تو یہ جہنم میں جائے گا۔
  3. ​تیسرا شخص وہ ہے جو جہالت کی بنیاد پر لوگوں کے لیے فیصلہ کرے تو یہ بھی جہنم میں جانے والا ہے"۔

​حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت

​اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے عدل و انصاف کے منصب پر بیٹھنے والوں کو ایک بہت بڑا ضابطہ دیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

​1. پہلا شخص: سچا منصف (جنت کا حقدار)

​وہ شخص جو کسی معاملے میں فریقین کے دلائل کو توجہ سے سنتا ہے، مکمل تحقیق کر کے سچائی اور حق کو پہچانتا ہے، اور پھر کسی دباؤ، لالچ، یا ذاتی پسند و ناپسند کے بغیر بالکل حق کے مطابق فیصلہ صادر کرتا ہے۔ شریعت کی رو سے ایسے منصف کا مقام بہت بلند ہے، کیونکہ اس نے زمین پر اللہ کے قانونِ عدل کو قائم کیا۔

​2. دوسرا شخص: جان بوجھ کر ناانصافی کرنے والا (جہنم کا مستحق)

​یہ وہ شخص ہے جو جانتا ہے کہ حق کیا ہے اور مظلوم کون ہے، لیکن وہ اپنی ذاتی دشمنی، رشوت، سفارش یا دنیاوی فائدے کے لیے جانتے بوجھتے ہوئے ظالم کے حق میں اور مظلوم کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے۔ ایسا شخص حق کو جانتے ہوئے اس کا سودا کرتا ہے، اسی لیے اس کے لیے جہنم کی سخت وعید سنائی گئی ہے۔

​3. تیسرا شخص: جاہل اور نااہل فیصلہ کرنے والا (جہنم کا مستحق)

​یہ نکتہ انتہائی اہم ہے۔ وہ شخص جو کسی معاملے کا گہرا علم نہیں رکھتا، نہ ہی شریعت اور قانون کے ضابطوں سے واقف ہے، لیکن وہ محض اپنی ناقص رائے، تکبر یا جذبات کی بنیاد پر لوگوں کے بڑے بڑے فیصلے کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اسلام میں نادانی اور جہالت کے ساتھ فیصلہ کرنا بذاتِ خود ایک جرم ہے، کیونکہ علم کے بغیر منصب پر بیٹھنا فریقین کے ساتھ ظلم کا سبب بنتا ہے۔

لفظ
اعراب