قربانی کی عبادت کے لیے شریعتِ اسلامیہ نے جہاں جانور کی صفات اور نیت کے اخلاص کو لازمی قرار دیا ہے، وہاں اس کے لیے ایک مخصوص وقت بھی مقرر فرمایا ہے۔ قربانی کا وقت عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص جوشِ جذبات میں یا نادانی کی وجہ سے عید کی نماز سے پہلے ہی جانور ذبح کر دیتا ہے، تو وہ عمل شریعت میں قربانی شمار نہیں ہوتا بلکہ وہ محض عام گوشت کہلاتا ہے۔
آئیے اس اہم مسئلے پر مستند حدیثِ مبارکہ، اس کا اصل عربی متن، اردو ترجمہ اور تفصیلی وضاحت کا مطالعہ کرتے ہیں۔
حدیثِ مبارکہ (اصل عربی متن)
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ
حدیث کا حوالہ:
- کتاب کا نام: صحیح بخاری
- حدیث نمبر: 5562
- (نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ صحیح بخاری کے کتاب الاضاحی میں مروی ہے، جو قربانی کے وقت کی ابتدا متعین کرنے کے لیے سب سے مضبوط اور بنیادی دلیل ہے)۔
اردو ترجمہ
خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس نے (عید کی) نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے، اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے"۔
حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت
اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے درست وقت کی حد مقرر فرمائی ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. قربانی کے وقت کی ابتدا
شریعت کا قاعدہ ہے کہ عید الاضحیٰ کے دن سب سے پہلا کام عید کی نماز ادا کرنا ہے۔ نمازِ عید سے فارغ ہونے سے پہلے جانور پر چھری چلانا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا، تو حدیث کے دوسرے الفاظ کے مطابق وہ صرف اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے گوشت ہے، اس سے قربانی کا واجب یا سنت ادا نہیں ہوتا۔
2. غلطی کا ازالہ اور دوبارہ قربانی
آپ ﷺ نے واضح طور پر حکم دیا کہ "جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے"۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی سے یہ غلطی انجانے میں بھی ہو جائے، تب بھی صاحبِ استطاعت ہونے کی صورت میں اس پر لازم ہے کہ وہ قربانی کے دنوں میں دوسرا جانور خرید کر دوبارہ ذبح کرے تاکہ اس کی عبادت مکمل ہو سکے۔
3. شہر اور دیہات کا فرق
فقہاء کرام نے احادیث کی روشنی میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ جن شہروں یا بڑے دیہاتوں میں عید کی نماز باقاعدہ قائم ہوتی ہے، وہاں عید کی پہلی نمازِ عید کے اختتام کے بعد ہی قربانی شروع کی جا سکتی ہے۔ البتہ وہ چھوٹے دور دراز دیہات یا علاقے جہاں عید کی نماز واجب یا قائم نہیں ہوتی، وہاں عید کے دن صبحِ صادق (فجر کا وقت شروع ہونے) کے بعد قربانی کی جا سکتی ہے۔