ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن اللہ تعالیٰ کے ہاں سال کے تمام دنوں میں سب سے زیادہ محبوب اور فضیلت والے ہیں۔ انھی مبارک دنوں میں 9 ذی الحجہ کا دن آتا ہے، جسے "یومِ عرفہ" کہا جاتا ہے۔ یہ حج کا اہم ترین رکن ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے رحمتوں اور مغفرت کی عظیم نوید ہے۔ اس دن روزہ رکھنا سنتِ نبوی ﷺ ہے اور اس ایک روزے کا اجر انسان کے پچھلے اور اگلے گناہوں کی معافی کا ضامن بن جاتا ہے۔
آئیے اس ایمان افروز اور فضیلت سے بھرپور موضوع پر مستند حدیثِ مبارکہ، اس کا اصل عربی متن، اردو ترجمہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
حدیثِ مبارکہ
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ
حدیث کا حوالہ:
- کتاب کا نام: سنن ترمذی
- حدیث نمبر: 749
- (نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ انتہائی مستند ہے اور صحیح مسلم، حدیث نمبر 1162 میں بھی انھی الفاظ کے ساتھ مروی ہے، جو یومِ عرفہ کے روزے کی اہمیت پر سب سے بڑی دلیل ہے)۔
اردو ترجمہ
خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مجھے اللہ کی ذات پر یقین ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ یومِ عرفہ (9 ذی الحجہ) کے روزے کے بدلے گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہ معاف فرما دے گا"۔
حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت
اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے امت کو ایک ایسے مختصر مگر عظیم الشان عمل کی طرف متوجہ فرمایا ہے جس کا ثواب عقل کو حیران کر دیتا ہے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. دو سال کے گناہوں کا کفارہ
اللہ رب العزت کی رحمت کا اندازہ کیجیے کہ سال کے 365 دنوں میں سے صرف ایک دن (9 ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے کے بدلے انسان کے دو سال کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ ایک وہ سال جو گزر چکا ہے، اور ایک وہ سال جو ابھی آنا ہے۔
2. گناہوں کی معافی سے کیا مراد ہے؟
محدثین اور فقہاء کرام کے مطابق اس حدیث میں گناہوں کی معافی سے مراد "صغیرہ گناہ" (چھوٹی غلطیاں اور لغزشیں) ہیں۔ جہاں تک "کبیرہ گناہوں" (بڑے گناہوں) کا تعلق ہے، تو ان کے لیے سچے دل سے توبہ کرنا اور بندوں کے حقوق (اگر کسی کا حق مارا ہو) تو وہ ادا کرنا لازمی ہے۔ تاہم، اس روزے کی برکت سے اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہوں کے بوجھ میں بھی کمی فرما دیتا ہے یا توبہ کی توفیق دے دیتا ہے۔
3. یہ روزہ کس کے لیے ہے؟
یہ عظیم فضیلت دنیا بھر کے ان مسلمانوں کے لیے ہے جو حج پر نہیں گئے اور اپنے گھروں میں موجود ہیں۔ میدانِ عرفات میں موجود حاجیوں کے لیے یومِ عرفہ کا روزہ نہ رکھنا افضل ہے، تاکہ وہ کمزوری سے بچ کر خشوع و خضوع کے ساتھ حج کی دعاؤں اور مناجات میں مصروف رہ سکیں۔