قربانی کے جانور کا خون اور گوبر بھی نیکی بنے گا | مصنف عبد الرزاق حدیث 8167


اللہ تعالیٰ کی راہ میں خلوصِ نیت سے پیش کی جانے والی قربانی کا اجر و ثواب انسان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہے۔ بظاہر قربانی کا عمل چند لمحوں کا ہوتا ہے، لیکن بارگاہِ الٰہی میں اس کا ایک ایک پہلو محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جانور کا وہ حصہ بھی جو عام طور پر ہمارے کسی کام کا نہیں ہوتا (جیسے اس کا خون، گوبر یا اوجھڑی کا فضلہ)، وہ بھی قیامت کے دن مومن کے میزانِ عمل میں نیکیوں کا پلڑا بھاری کرنے کا سبب بنے گا۔

​آئیے اس ایمان افروز موضوع پر مستند حدیثِ مبارکہ، اس کا اصل عربی متن، اردو ترجمہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔

​حدیثِ مبارکہ 

​عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

​يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ضَحُّوا وَاحْتَسِبُوا بِدِمَائِهَا، فَإِنَّ الدَّمَ وَإِنْ وَقَعَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ يَقَعُ فِي حِرْزِ اللَّهِ، وَإِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا وَجَّهَ أُضْحِيَّتَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، كَانَ دَمُهَا، وَفَرْثُهَا، وَصُوفُهَا، حَسَنَاتٍ مُحْضَرَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

​حدیث کا حوالہ:

  • ​کتاب کا نام: المصنف للامام عبد الرزاق الصنعانی
  • ​حدیث نمبر: 8167
  • ​(نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ قربانی کرنے والے مومن کے دل کو اطمینان اور خوشی فراہم کرتی ہے کہ اللہ کی راہ میں بہایا گیا خون ضائع نہیں جاتا)۔

​اردو ترجمہ

​خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

​"قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو! کیونکہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رُخ قبلے کی طرف (کر کے ذبح) کرتا ہے تو اس جانور کا خون، گوبر اور اون قیامت کے دن اس کے اعمال کے ترازو میں نیکیوں کی صورت میں رکھے جائیں گے"۔

​حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت

​اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو قربانی کے حوالے سے ایک عظیم بشارت دی ہے اور ساتھ ہی اس کے آداب بھی سکھائے ہیں۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

​1. خوش دلی اور نیت کا اخلاص

​حدیث کے آغاز میں آپ ﷺ نے فرمایا: "خوش دلی سے کیا کرو"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کرتے وقت دل پر کوئی بوجھ یا کراہیت نہیں ہونی چاہیے، نہ ہی یہ خیال آنا چاہیے کہ مال ضائع ہو رہا ہے۔ مومن کو یہ سوچ کر خوش ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کر رہا ہے۔

​2. قبلہ رُخ کرنے کی برکت

​جب جانور کو ذبح کرتے وقت اس کا رخ قبلہ کی طرف کیا جاتا ہے، تو یہ ایک باقاعدہ عبادت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ شریعت میں ذبح کے وقت جانور کو قبلہ رخ لٹانا سنتِ مؤکدہ ہے، اور اس عمل کی برکت سے جانور سے جڑی ہر چیز بابرکت ہو جاتی ہے۔

​3. ضائع ہونے والی چیزیں بھی نیکیوں کا سبب

​انسان جانور ذبح کر کے صرف اس کا گوشت اور کھال استعمال کرتا ہے، جبکہ خون زمین میں بہہ جاتا ہے اور فضلہ (گوبر وغیرہ) پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن اللہ رب العزت کا کرم دیکھیے کہ جو چیزیں دنیا میں ضائع کر دی جاتی ہیں، انہیں بھی اللہ تعالیٰ ضائع نہیں فرماتا۔ قیامت کے دن ان تمام چیزوں کو نیکیوں کی شکل میں بدل کر مومن کے ترازو (میزان) میں تولا جائے گا، تاکہ اس کا پلڑا بھاری ہو سکے۔

لفظ
اعراب