حج اور عمرہ اسلام کے وہ عظیم ارکان اور عبادات ہیں جو نہ صرف انسان کے ایمان کو تازگی بخشتے ہیں بلکہ اسے گناہوں سے پاک صاف کر کے رب کے قریب کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حجِ مقبول کے لیے جنت جیسی عظیم نعمت کا وعدہ فرمایا ہے۔
حدیثِ مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ"
اردو ترجمہ
خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مبرور و مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ اور ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے"۔
4. حدیث کا حوالہ
- کتاب: سنن نسائی (Sunan an-Nasa'i)
- حدیث نمبر: 2624
5. حج مبرور اور عمرہ کی اہمیت (وضاحت)
اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہمیں درج ذیل اہم نکات معلوم ہوتے ہیں:
- حج مبرور کیا ہے؟ مبرور اس حج کو کہتے ہیں جو مکمل طور پر اخلاص کے ساتھ کیا جائے، جس میں کوئی گناہ یا بیہودہ بات نہ ہو اور وہ اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو جائے۔
- جنت کی ضمانت: ایسے حج کا صلہ اللہ تعالیٰ نے صرف جنت کو قرار دیا ہے، یعنی ایسا شخص مرنے کے بعد سیدھا جنت کا حقدار بن جاتا ہے۔
- گناہوں سے پاکیزگی: عمرہ کرنے کی فضیلت یہ ہے کہ دو عمروں کے درمیانی وقفے میں ہونے والے صغیرہ گناہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے معاف فرما دیتا ہے۔
- روحانی سفر: یہ عبادات انسان کو دنیا کی رنگینیوں سے نکال کر آخرت کی فکر اور اللہ کی خشیت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔