اللہ کے تین خصوصی مہمان: غازی، حاجی اور عمرہ کرنے والے کی عظیم فضیلت

اسلام میں بعض نیکیاں ایسی ہیں جنہیں انجام دینے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنا "خصوصی وفد" اور مہمان قرار دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھر بار چھوڑ کر اللہ کی رضا کے لیے نکلتے ہیں، اللہ ان کی پکار سنتا ہے اور ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرماتا ہے۔

حدیثِ مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: الْغَازِي، وَالْحَاجُّ، وَالْمُعْتَمِرُ"


اردو ترجمہ

​خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"تین شخص اللہ کے وفد (خصوصی مہمان) میں سے ہیں:

  1. غازی (راہِ خدا میں جہاد کرنے والا)
  2. حج کرنے والا
  3. عمرہ کرنے والا"

4. حدیث کا حوالہ

  • کتاب: سنن نسائی (Sunan an-Nasa'i)
  • حدیث نمبر: 2627

5. اللہ کے وفد (مہمانوں) کی خصوصیات (وضاحت)

​اس حدیثِ مبارکہ میں ان تین گروہوں کو اللہ کا "وفد" (Delegation) قرار دینے کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

  • اللہ کی پکار پر لبیک: یہ تینوں گروہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنا مال اور وقت قربان کرتے ہیں، اس لیے اللہ ان کی میزبانی خود فرماتا ہے۔
  • دعاؤں کی قبولیت: دیگر احادیث کی روشنی میں، اللہ کا وفد جب اللہ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے عطا کرتا ہے اور جب وہ دعا کرتے ہیں تو ان کی دعا قبول ہوتی ہے۔
  • عظیم قربانی: غازی اپنی جان ہتھیلی پر رکھتا ہے، جبکہ حاجی اور عمرہ کرنے والے مالی و جسمانی مشقت اٹھا کر اللہ کے گھر پہنچتے ہیں۔
  • درجات کی بلندی: ان تینوں اعمال کا اجر اللہ کے ہاں بے حساب ہے اور یہ جنت کے حصول کے قریبی راستے ہیں۔
لفظ
اعراب