رزق میں تاخیر اور ہماری بے چینی: حلال طریقے سے رزق حاصل کرنے کا نبوی ﷺ حکم


انسانی زندگی میں رزق کی فکر ایک فطری امر ہے، لیکن بسا اوقات رزق ملنے میں تاخیر انسان کو غلط راستوں کی طرف مائل کر دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ پختہ یقین دلایا ہے کہ کوئی بھی جان اس وقت تک موت کا ذائقہ نہیں چکھے گی جب تک وہ اپنا مقدر کیا گیا رزق پورا نہ کر لے۔

حدیثِ مبارکہ (مفہوم)

​خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے:

"کسی شخص کو اس وقت تک موت نہ آئے گی جب تک وہ اپنا رزق پورا نہ کر لے، اس لیے اللہ سے ڈرو اور حصولِ رزق کا اچھا اور حلال طریقہ اختیار کرو"۔

​آپ ﷺ نے مزید تاکید فرمائی کہ:

"رزق کا تاخیر سے ملنا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اسے اللہ کی نافرمانی اور معصیت کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ اللہ کے پاس جو کچھ (حلال رزق) ہے وہ محض اس کی فرمانبرداری سے ہی مل سکتا ہے"۔

4. حدیث کا حوالہ 

  • کتاب: مصنف ابن ابی شیبہ (Musannaf Ibn Abi Shaybah)
  • حدیث نمبر: 35473

5. رزق اور تقویٰ (وضاحت)

​اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں زندگی گزارنے کے لیے چند سنہری اصول ملتے ہیں:

  • رزق کی ضمانت: اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے رزق کی ذمہ داری خود لی ہے۔ پریشان ہو کر ناجائز ذرائع اختیار کرنا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
  • حلال طریقہ اختیار کریں: رزق تو ملنا ہی ہے، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے عزت کے ساتھ حلال طریقے سے حاصل کرتا ہے یا ذلت کے ساتھ حرام طریقے سے۔
  • نافرمانی سے بچیں: گناہ اور نافرمانی سے بظاہر مال بڑھتا ہوا نظر آتا ہے لیکن اس میں سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔
  • برکت کا راز: اللہ کی فرمانبرداری میں ہی حقیقی رزق اور دلی سکون چھپا ہے۔
لفظ
اعراب