علم کی اہمیت اور علماء کا اٹھ جانا: قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی


کسی معاشرے سے علم کا اٹھ جانا اس کی بربادی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر ختم نہیں فرمائے گا، بلکہ علم کا خاتمہ اس کے حاملین یعنی علماءِ کرام کے اٹھ جانے سے ہوگا۔ جب معاشرہ حقیقی رہنمائی سے محروم ہو جاتا ہے تو جہالت عام ہو جاتی ہے۔

حدیثِ مبارکہ (مفہوم)

​خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں کے سینوں سے نکال لے، بلکہ پختہ کار علماء کو موت دے کر علم کو اٹھا لیا جائے گا"۔

​آپ ﷺ نے مزید تنبیہ فرمائی:

"یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، ان سے دینی مسائل پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے"۔

4. حدیث کا حوالہ 

  • کتاب: صحیح بخاری (Sahih Bukhari)
  • حدیث نمبر: 100

5. علم اور علماء کی اہمیت (وضاحت)

​اس حدیثِ مبارکہ میں ہمیں ایک بہت بڑی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے:

  • علماء کی قدر: ایک سچا عالمِ دین معاشرے کے لیے چراغ کی مانند ہوتا ہے۔ اس کی وفات صرف ایک شخص کی موت نہیں بلکہ پورے عالم (دنیا) کی موت کے مترادف ہے۔
  • فتنۂ جہالت: جب مستند علماء موجود نہیں ہوتے تو لوگ نیم حکیم اور جاہل لوگوں کو اپنا پیشوا بنا لیتے ہیں جو دین کا حلیہ بگاڑ دیتے ہیں۔
  • خود ساختہ فتوے: بغیر علم کے فتوے دینا نہ صرف اپنی آخرت برباد کرنا ہے بلکہ پوری قوم کو گمراہی کی کھائی میں دھکیلنا ہے۔
  • ہمارا فرض: ہمیں چاہیے کہ ہم موجودہ علماءِ ربانی کی قدر کریں، ان سے علم حاصل کریں اور دین کو مستند ذرائع سے سیکھیں۔
لفظ
اعراب