لوحِ محفوظ میں لکھی گئی تحریر: اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کا عظیم بیان


اللہ تعالیٰ کی ذات بے انتہا مہربان اور قدردان ہے۔ کائنات کی تخلیق کے وقت ہی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک ایسی حقیقت کو لوحِ محفوظ میں درج فرما دیا تھا جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے امید اور سکون کا باعث ہے۔ یہ تحریر ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کا غصہ برحق ہے مگر اس کی رحمت کی وسعت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

حدیثِ مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ لَمَّا قَضَى الْخَلْقَ، كَتَبَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي"

اردو ترجمہ

​حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا فرمایا تو لوحِ محفوظ میں یہ لکھ دیا:"

"میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے"

حدیث کا حوالہ

  • کتاب: صحیح مسلم (Sahih Muslim)
  • حدیث نمبر: 6969

لوحِ محفوظ کی اس تحریر کی خصوصیات (وضاحت)

​اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہمیں درج ذیل اہم نکات کا سبق ملتا ہے:

  • امید کا پیغام: یہ حدیث گناہ گاروں کے لیے مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ہے کہ اللہ کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر سبقت لے جاتی ہے۔
  • تخلیق کا مقصد: کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی اس تحریر کا لکھ دیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ رعایت اور شفقت کا معاملہ کرنا چاہتا ہے۔
  • توبہ کی دعوت: جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ اس کا رب غصے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تو اسے توبہ اور رجوع الی اللہ میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
  • عظیم خوشخبری: یہ کلمات اللہ کے عرش کے پاس محفوظ ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ کائنات کا نظام عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ بے پایاں رحمت پر قائم ہے۔
لفظ
اعراب