حج کا مہینہ یعنی ذی الحجہ اپنے ساتھ بے شمار برکتیں اور عبادت کے خاص مواقع لے کر آتا ہے۔ اس ماہِ مبارک میں جہاں قربانی کرنے والے لاکھوں روپے خرچ کر کے اللہ کی رضا حاصل کرتے ہیں، وہاں نبی کریم ﷺ نے ایک انتہائی آسان اور بابرکت عمل کے ذریعے حاجیوں سے مشابہت اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
حدیثِ مبارکہ (متن و مفہوم)
خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جب تم ماہِ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ (جانور ذبح کرنے تک) نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ہی ناخن تراشے"۔
4. حدیث کا حوالہ
- کتاب: صحیح مسلم (Sahih Muslim)
- حدیث نمبر: 5117
5. اہم ہدایات اور شرعی آداب (وضاحت)
اس حدیثِ مبارکہ پر عمل کرنے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
- وقت کی پابندی: یہ حکم ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور جب تک آپ کا جانور ذبح نہیں ہو جاتا، تب تک اس پر عمل کرنا مستحب ہے۔
- حجاج کرام سے مشابہت: اس عمل کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ جو لوگ حج پر نہیں جا سکے، وہ بال اور ناخن نہ کٹوا کر احرام کی حالت میں موجود حجاجِ کرام سے ایک گونی مشابہت اختیار کر لیتے ہیں، جس پر اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے۔
- مغنیہ اور ضروری صفائی: چونکہ آج 29 ذی القعدہ ہے، لہذا قربانی کا ارادہ رکھنے والے تمام حضرات کو چاہیے کہ وہ مغرب (چاند رات) سے پہلے پہلے جسم کے غیر ضروری بال اور ناخن تراش لیں۔
- محرومی سے بچاؤ: وہ غریب مسلمان جو مالی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے قربانی نہیں کر سکتے، اگر وہ بھی ان دنوں میں بال اور ناخن نہ کاٹیں اور عید کے دن نماز کے بعد کاٹیں، تو احادیث کے مطابق اللہ انہیں بھی قربانی کا پورا ثواب عطا فرماتا ہے۔