ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی مسلمانوں کے دلوں میں سنتِ ابراہیمی اور قربانی کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے۔ قربانی محض ایک رسم نہیں، بلکہ مالی و بدنی عبادت اور اللہ کی راہ میں سب کچھ نچھاور کرنے کی علامت ہے۔ جہاں شریعت نے صاحبِ استطاعت لوگوں کے لیے اس کی بے پناہ فضیلت بیان کی ہے، وہاں وُسعت اور مال و دولت ہونے کے باوجود قربانی سے جی چرانے والوں کے لیے سخت وعید بھی سنائی ہے۔
آئیے اس سلسلے میں مستند حدیثِ مبارکہ، اس کا عربی متن، اردو ترجمہ اور تفصیلی وضاحت کا مطالعہ کرتے ہیں۔
حدیثِ مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا
حدیث کا حوالہ:
- کتاب کا نام: مسند امام احمد بن حنبل
- حدیث نمبر: 7924
- (نوٹ: یہ حدیث دیگر کتبِ حدیث جیسے سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3123 میں بھی روایت کی گئی ہے اور حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے)۔
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس شخص میں قربانی کرنے کی وُسعت (مالی گنجائش) ہو اور پھر بھی وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ (مصلّیٰ) کے قریب بھی نہ آئے۔"
حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت
اس حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے قربانی نہ کرنے والے صاحبِ استطاعت شخص پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. "وُسعت" سے کیا مراد ہے؟
حدیث میں لفظ "سَعَةٌ" استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے "کشادگی، گنجائش یا طاقت"۔ فقہاء کے مطابق اس سے مراد وہ شخص ہے جو عید کے دنوں میں قربانی کا جانور خریدنے کی مالی استطاعت رکھتا ہو اور یہ خرچہ اس کی بنیادی ضرورتوں (مثلاً کھانا، رہائش، لباس اور واجب الادا قرض) سے زائد ہو۔
2. "ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے" کا مطلب
یہ جملہ انتہائی غور طلب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس پر عید کی نماز حرام ہو جاتی ہے، بلکہ یہ سخت ناراضگی، تنبیہ اور زجر و توبیخ کا ایک انداز ہے۔
- اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کنجوسی کرتا ہے، وہ مسلمانوں کی خوشی اور ان کے اِجتماع (عید کی نماز) میں شامل ہونے کا اخلاقی حق کھو بیٹھتا ہے۔
- ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ نے اتنی سخت وعید فرمائی، تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صاحبِ حیثیت پر قربانی کرنا کتنا اہم اور تاکید والا معاملہ ہے۔
3. قربانی کا اصل مقصد
قربانی صرف گوشت کھانے یا دکھاوے کا نام نہیں ہے۔ یہ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یادگار ہے جہاں انہوں نے اللہ کے حکم کے سامنے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرنے میں سستی نہیں دکھائی۔ ایک مسلمان جب جانور پر چھری چلاتا ہے، تو وہ اصل میں اپنے اندر کی قربانی اور تسلیم و رضا کے جذبے کو تازہ کرتا ہے۔