محفل میں کانا پھوسی یا سرگوشی کرنے کی ممانعت | صحیح مسلم حدیث 5697


​اسلام ایک ایسا مثالی اور خوبصورت دین ہے جو صرف عبادات ہی نہیں سکھاتا، بلکہ انسان کو معاشرتی زندگی گزارنے کے بہترین آداب و اخلاق سے بھی نوازتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے باہمی تعلقات میں محبت، اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے چھوٹی سے چھوٹی باتوں کا خیال رکھا ہے۔ انھی آداب میں سے ایک اہم ادب یہ ہے کہ جب چند لوگ ایک جگہ بیٹھے ہوں، تو کچھ افراد کا باقیوں کو چھوڑ کر آپس میں خفیہ باتیں یا کانا پھوسی کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔ یہ عمل دوسرے ساتھیوں کے دلوں میں شک، بدگمانی اور احساسِ کمتری پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

​حدیثِ مبارکہ

​عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

​إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى رَجُلَانِ دُونَ الآخَرِ، حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ، مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ

​حدیث کا حوالہ:

  • ​کتاب کا نام: صحیح مسلم
  • ​حدیث نمبر: 5697
  • ​(نوٹ: یہ حدیثِ مبارکہ صحیح بخاری میں بھی موجود ہے، جو معاشرتی آداب اور انسانی نفسیات کی پاسداری کے لیے ایک بنیادی ضابطہ فراہم کرتی ہے)۔

​اردو ترجمہ

​خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

​"جب تم تین لوگ بیٹھے ہو تو تم میں سے دو لوگ اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں اس لیے کہ تمہاری یہ سرگوشی اسے پریشان کر دے گی"۔

​حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی وضاحت

​اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک بہترین نفسیاتی اور اخلاقی اصول سکھایا ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

​1. تیسرے ساتھی کی دلجوئی اور نفسیاتی پہلو

​جب کسی مجلس میں کل تین افراد موجود ہوں اور ان میں سے دو آپس میں کانا پھوسی یا سرگوشی (خفیہ بات) شروع کر دیں، تو تیسرے شخص کے دل میں قدرتی طور پر یہ وہم اور خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید یہ دونوں میرے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں، یا میری برائی کر رہے ہیں، یا پھر مجھے اس قابل نہیں سمجھتے کہ اپنی بات میں شریک کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عمل "اسے پریشان (غمگین) کر دے گا"، اور اسلام کسی بھی مسلمان کو بلاوجہ رنج و غم پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔

​2. ممانعت کی حد اور استثناء

​حدیث کے دیگر الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ممانعت اس وقت تک ہے "جب تک تم لوگوں سے گھل مل نہ جاؤ"۔ یعنی اگر مجلس میں تین سے زائد افراد (مثلاً چار یا پانچ لوگ) موجود ہوں، اور دو افراد آپس میں کوئی بات کر لیں، تو اس کی گنجائش ہے کیونکہ پیچھے اکیلا رہ جانے والا شخص تنہا یا نظرانداز محسوس نہیں کرتا، بلکہ وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کر سکتا ہے۔

​3. زبان کا انتخاب بھی سرگوشی کے حکم میں ہے

​فقہاء کرام نے اس حدیث کی روشنی میں یہ نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اگر تین افراد موجود ہوں اور ان میں سے دو افراد ایسی زبان میں بات کرنا شروع کر دیں جو تیسرا ساتھی نہیں سمجھتا (مثلاً دو لوگ انگریزی یا عربی میں بولیں اور تیسرے کو وہ زبان نہ آتی ہو)، تو یہ عمل بھی سرگوشی ہی کے حکم میں آئے گا اور اس سے بھی پرہیز کرنا لازم ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ بھی وہی بدگمانی اور دل شکنی ہے۔


لفظ
اعراب